میت ‏کی ‏طرف ‏سے ‏زکوة ‏از ‏قلم ‏خلیفہ گلزار ‏ملت ‏مفتی ‏فیروزالقادری ‏مصباحی

0
٧٨٦/٩٢ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
ھندہ مالک نصاب تھی لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا نہ سکی یہاں تک کہ چند دنوں پہلے ان کا وصال ہوگیا بعد وصال ان کی ملکیت کو اکٹھا کی گئی تو وہ بھی نصاب سے فاضل ہے -
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ھندہ کے وارثین (بیٹے یا بیٹیوں) پر ہندہ کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے؟ 
یا پھر وہ کون سی صورت اپنائی جائے کہ ھندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مواخذہ سے محفوظ ہوجائے ؟
بینوا وتؤجروا

المستفتی 
محمد مبارک حسین الحسینی( مدھوبنی) 

 *الجواب بعون ملک الوھاب* 
مالک نصاب پر سال میں ایک بار مال کا ڈھائی فیصد حصہ بطور زکوۃ ادا کرنا فرض ہے - 
زکوۃ نہ دینے والا سخت گناہ گار مستحق قتل اور ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور فاسق مردود الشھادۃ ہے - 
صورت مسئولہ میں ھندہ نے اگر زکوۃ کی ادائیگی کیلئے وصیت کیا ہے تو اس کے ایک تہائی مال سے زکوۃ ادا کرنا وارثین پر لازم ہے اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ادا کرنا پڑے تو تمام بالغ وارثین (لڑکے، لڑکیوں) کی رضا مندی کے بعد زکوۃ ادا کی جا سکتی ہے -
 اور اگر ھندہ نے وصیت نہیں کی ہے تو وارثین کے ذمہ اس کا ادا کرنا واجب نہیں ہے - 
 *ہاں اگر وارثین (لڑکے، لڑکیاں) بطور استحسان اور تبرع ادا کرنا چاہتے ہیں تو یقیناً کرسکتے ہیں امید ہے اللہ تعالیٰ مرحومہ سے اس باب میں مواخذہ نہ کرے اور معاف فرمادے - (درمختار وغیرہ کتب فقہ) - واللہ اعلم* 
بلکہ اس بارے میں فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ وارثین کو بطور تبرع واستحسان ادا کر ہی دینا چاہیے - واللہ اعلم 

کتبه- محمد فیروزالقادری مصباحی 
خادم جامعہ نبویہ ازہری محلہ رام پور مدھواپور مدھوبنی بہار - 
١٨ رمضان المبارک ١٤٤٢ ھ مطابق ١ مئی ٢٠٢١ء
بعد نماز عصر

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
To Top