کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
اگر کسی شخص کے پاس صرف حرام کی دولت ہے اگر وہ توبہ کرلے تو توبہ کرنے کے بعد حرام کی دولت کا کیا حکم ہوگا بینوا وتوجرا
الجواب
صورت مسئولہ میں وہ دولت جن سے حاصل کیا ہے انھیں واپس کردے وہ نہ ملیں تو ان کے وارثین کو واپس کردیں وہ بھی نہ ملے تو بلانیت ثواب فقیروں پر صدقہ کردے
امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں
حرام روپیہ کسی کام میں لگانااصلًا جائزنہیں،نیك کام ہو یا اور،سوا اس کے کہ جس سے لیا اُسے واپس دے یافقیروں پرتصدّق کرے۔بغیر اس کے کوئی حیلہ اُس کے پاك کرنے کانہیں،اُسے خیرات کرکے جیساپاك مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہے،بلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے۔ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدّق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے (فتاوی رضویہ شریف ج،٢٣ ص ٥٨٣ مترجم)
واللہ اعلم
کتبہ
فیروز القادری مصباحی
جامعہ نبویہ مدھوبنی بہار
١٤ دسمبر ٢٠٢٢ بروز چہار شنبہ
