مکتب ‏میں ‏صدقہ ‏فطر ‏اور ‏زکوة ‏کی ‏رقم ‏لگانا ‏کیساہے ‏

0
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں۔ 
 گاؤں کا مدرسہ جو مکتب چلتا ہے اور مسجد ہے اس میں فطرہ جمع کرنا کیسا ہے؟ 
قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ 
سائل محمد زاہد حسین نیپال۔
_________________________
_________________________

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب
زکوۃ اور صدقات واجبہ کا اصل مستحق تک پہنچنا اور ان کا مالک ہوجانا ادائیگی کیلئے شرط(لازم) بغیر اس کے زکوۃ وصدقات واجبہ ادا نہ ہوں گے
قرآن کریم میں مصارف کا بیان ہے-
انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیھا والمؤلفة قلوبهم و فى الرقاب و الغارمين و فى سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم-(القرآن۔ توبہ ٦٠) 
ترجمہ- زکوٰۃ تو انھیں لوگوں کے لئے ہے ، محتاج اور نرے نادار اور اسے تحصیل کر کے لاںٔیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے، اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔(کنزالایمان) 
گاؤں کی مسجد اور اس کے تحت چلنے والا مکتب بنام مدرسہ جو زکوۃ وصدقات کا مصرف نہیں ہے اس میں زکوۃ اور صدقہ فطر نہ دینا جائز ہے اور نہ ہی اس کا ان جگہوں پر لگانا جائز ہے اور نہ ہی وصولی کرنا جائز - کہ یہ شریعت پر زیادتی ہے - 

فتاوی عالم گیری میں ہے-
"لایجوز ان يبنى بالزكوة المسجد و كذا القناطر والسقايات و اصلاح الطرقات و كرى الانهار والحج و الجهاد وكل مالا تمليك فيه"-
فتاویٰ عالمگیری ج ١ ص ١٨٨)-
ہاں مدارس اسلامیہ جن کے اخراجات بہت ہیں اگر زکوۃ وصدقات کی رقم چھوڑ دئے جائیں تو طلباء کی ایک بہت بڑی جماعت تعلیم سے پیچھے رہ جائیں اور دین کا کام دشوار سے دشوارتر ہوجائے اور کام کرنے والے مدارس اسلامیہ بند ہوجائیں انھیں ضرورتوں کے پیش نظر فقہائے کرام نے ضرورتاً بعد حیلہ شرعی مدارس اسلامیہ میں لگانے کی اجازت دی ہے کہ بعد حیلہ شرعی اب زکوۃ یا صدقہ واجبہ نہ رہا بلکہ صدقہ نافلہ ہوگیا - اور یہ صورت گاؤں کے مکتب میں بالکل نہیں پائی جاتی کیونکہ اس کے اخراجات بالکل ہی کم ہوتے ہیں بلکہ اتنے کم ہیں کہ گاؤں کے ہی لوگ پچاس، سو روپئے دے دیتے ہیں اور ضرورت پوری ہوجاتی ہے اس لئے مکتب کیلئے حیلہ شرعی کرنا، کروانا قطعاً درست نہیں اور اگر بلا ضرورت کروا بھی لیا تو وہ جائز نہیں -
عمدة القارى میں ہے-
 والحق أنه کان ذلک لغرض صحیح فیه رفق للمعذور، ولیس فیه إبطال لحق الغیر فلا بأس به من ذٰلک کما في قولہ تعالی: {وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِه وَلَا تَحْنَثْ} وإن کان لغرض فاسد کإسقاط حق الفقراء من الزکاۃ بتملیک ماله قبل الحول لولدہ أو نحو ذلک فهو حرام أو مکروہ۔ (عمدۃ القاري ۹/۱۰)

حیلہ شرعی صرف سخت ضرورت شرعی کے وقت ہی جائز  ہے اور  بغیر ضرورت کے حیلہ کرنا غیر شرعی اور ناجائز ہے کہ اس میں فقراء اور مستحقین زکوٰۃ کا حق مارنا اور باطل کرنا ہے جو کہ حرام ہے-
 فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے
 ’’ ھی مایتوصل بہ الی مقصود بطریق خفی ۔وھی عند العلماء علی اقسام بحسب الحامل علیھا ۔فان توصل بھا بطریق مباح الی ابطال حق او اثبات فھی حرام ‘‘
ترجمہ حیلہ یہ ہے کہ جائز طریقے سے کسی مقصود تک پہنچنا۔اور علماء کے نزدیک حیلہ کرنے والے کے اعتبار سے اس کی کئی اقسام ہیں : اگر جائز طریقے سے غیر کے حق کو باطل یا باطل چیز کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے حرام ہے ‘‘ فتح الباری ،شرح صحیح بخاری ،ج:۱۲،ص:۴۰۴-

فتاویٰ مرکزی تربیت افتاء میں ہے-
حیلہ کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے ، ایک یہ کہ غیر مصرف میں وہ رقم لگانے کی ضرورت پائی جائے ، دوم یہ کہ وہ فی نفسہ قربت اور ثواب کا کام ہو ، جہاں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں گی وہیں حیلہ کی اجازت ہوگی ، اس کے نہ ہونے کی صورت میں حیلہ کی اجازت نہیں ، مدارس اسلامیہ میں حیلہ کی اس لئے اجازت دی گئی ہے کہ وہاں دونوں شرطیں متحقق ہیں ،کیوں کہ دینی تعلیم کار ثواب ہے اور اہم ترین ضرورت بھی ہے کہ اگر انہیں زکوۃ نہ دی جائے تو مدارس یا تو بند ہو جائیں گے یا کمزور ہو جائیں گے ،لہذا مدارس اسلامیہ میں زکوٰۃ دینا بعد حیلہ شرعی ان کے مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے- اور دینی مکاتب کے مصارف قلیل ہوتے ہیں وہ لوگوں کے چندے عطیات اور چرم قربانی کی رقم سے چل سکتے ہیں ،اس لئے ان میں زکوۃ و صدقہ کی رقم نہ استعمال کریں ۔ ہاں جس جگہ لوگ اتنے غریب ہوں کہ نہ چلاسکیں یا بخیل ہوں کہ ہزار جدوجہد کے باوجود بقدر کفایت نہ دیں تو وہاں ضرورت کی مقدار زکوۃ و صدقہ فطر کی رقم سے حیلہ شرعی کرکے خرچ کر سکتے ہیں۔
(فتاوی مرکزی تربیت افتاء ج ١ ص ٤٢٣/٢٤)
صورت مسئولہ میں گاؤں کی مسجد میں یا مکتب جو مسجد کے تحت چلتا ہے اس میں صدقہ فطر کی رقم جمع کرنا جائز نہیں -
بعض جگہوں پر یہ دیکھا گیا ہے کہ گاؤں کے جہلا مسجد کے ذمہ داران ( جن کو شریعت کے احکام کی بالکل کوئی پروانہیں ) امام صاحبان سے فطرہ وصولی کا اعلان کرواتے ہیں اور امام صاحبان بھی خوب خوب اچھل اچھل کر اعلان کرتے ہیں بلکہ سارا رجسٹر اپنے پاس ہی رکھتے ہیں اور جبرا فطرہ کی رقم وصولتے ہیں نہیں دینے پر گاؤں سے بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور احکام شرعیہ کے خلاف یہ عمل بہت جرآت کے ساتھ کرتے ہیں ایسے لوگ  سخت گنہگار  ہیں ان پر فوراً توبہ کرنا واجب ہے -بلکہ غیر مصارف میں زکوۃ اور فطرہ کی رقم خرچ کرنے کی وجہ سے زکوۃ وفطرہ ادا نہ ہوئے اس کا تاوان ان وصولنے والوں پر ہے وہ بلا چوں چرا اس کو ادا کرے - 
واللہ اعلم
کتبہ - 
فیروزالقادری مصباحی
جامعہ نبویہ مدھوبنی بہار 
٢٦ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ٢٨ اپریل ٢٠٢٢ ء بروز جمعرات وقت ظہر

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
To Top