بدمذہبوں ‏سے ‏رشتے ازقلم خلیفہ گلزار ‏ملت مفتی ‏فیروزالقادری ‏مصباحی

0
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
1/کسی سنی صحیح العقیدہ لڑکا کی شادی غیر سنی مثلا وہابیہ- یا-دیا بینہ کے ساتھ کرنا کیسا ہے۔
2/کسی سنی صحیح العقیدہ لڑکی کی شادی غیر سنی کسی بھی وہابی یا دیوبندی کے ساتھ کرنا کیسا ہے۔
3/کچھ لوگ یہ کہکر اپنے بیٹے کی شادی وہابیہ ۔یا۔دیابینہ کے ساتھ کرتے ہیں کہ بعد میں اس کو سنی بنا لیں گے۔ کیا یہ درست ہے۔
جبکہ سنی بنانے سے قبل مع بارات وہابیہ۔ یا۔ دیا بینہ کہ یہاں جاتے ہیں۔سلام و کلام وطعام۔سب کچھ ہوتا ہے۔نیز محفل نکا ح میں سب کی شرکت بھی ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔
4/بعض جگہوں میں لوگ سنی صحیح العقیدہ امام پر یہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ ادھر والے وہابی یا دیوبندی ہیں
مگر میں تو سنی ہوں نا اس لیے میرے بیٹا یا بیٹی کا نکاح آپ کو ہی بڑھانا ہوگا
اور کچھ امام اس قسم کے نکاح پڑھا بھی دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں دباؤ ڈالنے والی عوام اور نکاح پڑھانے والے امام و گواہان پر شریعت کا کیا حکم ہے۔
5/جو وہابی یا دیوبندی علم سے نابلد ہیں۔جنہیں۔ ان کے پیشواؤں کے عقائد باطلہ کے بارے میں اتنا بھی علم نہیں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخیاں کرکے اپنے ایمان کو کھو بیٹھا ہے۔صرف جیسا دیش ویسا بھیس کے مطابق وہابی یا دیوبندی کہلوانے لگا ایسے وہابی یا دیوبندی کے گھر۔سنی لڑکا یا لڑکی کی شادی کرنا۔ اور سنی امام کا ایسا نکاح پڑھانا۔ازروئے شرع کیسا ہے۔
برائے کرم قرآن و احادیث کی روشنی میں۔مدلل و مفصل تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔المستفتی
فقیر۔ چمن قادری۔خادم
رضا جامع مسجد۔مدلمن۔
کروا۔جا لیے۔دربھنگہ۔

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب
1. 2 . صورت مسئولہ میں کسی سنی صحیح العقیدہ لڑکا کی شادی وہابیہ دیابنہ سے کرنا جائز نہیں اگر کر بھی دیا تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا جیسا کہ "عالمگیری" میں ہے " لايجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية" وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد كذا في المبسوط "
یعنی مرتد کا نکاح مرتدہ اور مسلمہ و کافرہ اصلیہ سے جائز نہیں اور ایسے ہی مرتدہ کا نکاح مرتد اور مسلم وکافر اصلی سے جائز نہیں ایسے ہی مبسوط میں مرقوم ہے اور وہابیت، دیوبندیت وغیرہا فرقہائے باطلہ خالص ارتداد ہے لھذا کسی سنی صحیح العقیدہ لڑکا کا نکاح وہابیہ دیابنہ بدمذہبیہ  لڑکی سے اور سنی صحیح العقیدہ لڑکی کا نکاح وہابی، دیوبندی بدمذہب لڑکا سے جائز نہیں-( فتاویٰ الرسول ج1 ص، 606) واللہ اعلم-
3. جو لوگ یہ کہ کر اپنے بیٹے کی شادی دیوبندیہ، وہابیہ لڑکی سے کرتے ہیں کہ بعد میں سنی بنالیں گے وہ سخت گناہ مستحق عذاب نار ہیں کہ اس نے زنائے خالص کا دروازہ کھول کر اپنے بیٹے کو زنا جیسے بدترین گناہوں میں ملوث کیا، باپ بیٹے دونوں پر توبہ لازم اور جس کا نکاح بدمذبیہ سے ہوا اس سے فوراً علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے - کیوں کہ وہابیہ دیابنہ  عقیدہ کفریہ رکھنے کی وجہ سے کافر و مرتد ہیں ان سے نکاح ہوگا ہی نہیں - جیسا کہ عالمگیری کی عبارت اوپر گزری - 
حدیث شریف میں ہے "ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم" ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں - کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں "-
ایک اور حدیث میں ہے
ان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلاتشھدوھم وان لقیتموھم فلاتسلمواعلیھم ولاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم واتصلوا علیھم ولاتصلوا معهم (مسلم) - بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو،ان کے ساتھ نہ پانی پیو، ان کے ساتھ نہ کھانا کھاؤ،  ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو-
اگر بدمذہب کی بدمذہبیت حدکفر کو پہنچی ہوتو ان کے ساتھ میل جول نشست و برخاست کھانا پینا سخت حرام و ناجائز اور اگر حد کفر کو نہ بھی پہنچی ہو تو بھی ناجائز، بارات میں شرکت حلال سمجھ کر اور بدمذہب کو مسلمان سمجھ کر کیا تو اپنے اس عقیدے کی وجہ سے اسلام سے خارج - واللہ اعلم
4. جو لوگ سنی صحیح العقیدہ امام کو وہابی دیوبندی کا نکاح پڑھانے پر دباؤ ڈال کر مجبور کرتے ہیں وہ سخت گناہ گار ہیں اپنے اس قبیح فعل سے اعلانیہ توبہ واستغفار کرے - اور جس امام نے کسی کے دباؤ میں آکر بدمذہب کا نکاح پڑھایا وہ سخت گناہ گار ہیں امام پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ واستغفار کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان کرے اور قاضیانہ کا روپیہ بھی فوراً واپس کرے - 
واللہ اعلم-
5. جو وہابی یا دیوبندی علم سے عاری ہے ایسی صورت میں اگر وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ دیوبندی یا وہابی ہے تو بحکم شرع وہ دیوبندی یا وہابی ہی ہے "حدیث شریف" میں المرأ یوخذ باقرارہ
پھر اگر مولوی اشرفعلی تھانوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد امبیٹھوی، اور قاسم نانوتوی کی عبارات کفریہ مندرجہ حفط الایمان ص ٨، براہین قاطعہ ص ٥١، اور تحذير الناس ٣، ١٤، ٢٨ ،پر یقینی اطلاع پاکر انھیں مسلمان سمجھتا ہے کافر نہیں کہتا ہے تو بمطابق  فتوی حسام الحرمین ایسے لوگ بھی کافر و مرتد ہیں من شک فی کفرہ عذابه فقد كفر
اور اگر ان کفری عبارتوں پر اسے اطلاع نہیں اور اس کا طریقہ کار مرتد وہابی، دیوبندی جیسا ہے تو ایسے لوگ گمراہ ہیں ان دونوں صورتوں میں  ان سے رشتہ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی سنی امام کا ایسا نکاح پڑھانا جائز ہے (فتاویٰ فیض الرسول ج١، ص، ٦١٣-
 واللہ اعلم-
کتبہ - خلیفہ حضور گلزار ملت فیروزالقادری مصباحی 
خادم تاج الشریعہ دارالافتاء جامعہ نبویہ ازہری محلہ رام پور مدھواپور مدھوبنی بہار 
تاریخ ١١ شعبان المعظم ١٤٤٢ھ
بمطابق ٢٥ مارچ ٢٠٢١ء بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
To Top