کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ -
ھندہ کے پاس سونے چاندی کی شکل میں کچھ زیورات ہیں اس نے اپنے زیورات کے بارے میں اپنے بڑے لڑکے سے کہا کہ اتنا زیور میری فلاں بیٹی کو دینا اتنا زیور میری فلاں بیٹی کو دینا اور اس پر اپنے بڑے بیٹے کو گواہ کردیا اور اسی نیت سے ھندہ نے اپنے ان زیورات کو اپنے بیٹیوں کے لیے الگ کر دیا لیکن کسی کو اس کا مالک بناکر قبضہ نہ دیا ھندہ ابھی بقید حیات ہے لیکن کچھ دنوں پہلے ھندہ کی بیٹیوں میں سے ایک (زینب) کا انتقال ہوگیا-
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ھندہ نے جو زیورات اپنی بیٹیوں کو دینے کیلئے الگ کردیا تھا
کیا زینب (جس کا انتقال ہوگیا) نکالے گئے اپنے حصے کے زیور کی مالکہ ہوگئی تھی ؟
کیا وہ زیور زینب (جس کا انتقال ہوگیا) کے ترکہ میں شامل ہوکر ان کے وارثین پر تقسیم ہوگا ؟
اس زیور کا اب مالک کون ہوگا اور اس زیور کو کیا کریں گے؟
جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں -
المستفتی - محمد عبدالباری برکاتی بنگلور کرناٹک
الجواب بعون ملک الوھاب
*زندگی میں مال وجائیداد کی تقسیم وراثت کی تقسیم نہیں ہے بلکہ ہبہ اور عطیہ ہے*
کسی چیز کا دوسرے کو بلا عوض مالک کردینے کو ھبہ کہتے ہیں جیسا کہ درمختار میں ہے - الھبة هی تمليك العين مجالا- اھ مفت میں عین چیز کا کسی کو مالک بنانے کو ھبہ کہتے ہیں اور اس کے بے شمار فضائل احادیث مبارکہ میں آئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا باہم ھدیہ کرو، اس سے آپس میں محبت ہوگی -
ھبہ کے ارکان ایجاب وقبول ہیں -
ھبہ تمام ہونے کیلئے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ ہبہ تام نہیں ہوتا -
درمختار میں ہے - تتم الھبة بالقبض الكامل - اھ ھبہ قبضہ کامل سے تام ہوتا ہے -
اعلی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فتاوی رضویہ شریف میں فرمایا
وفی الھندية ومنھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لایثبت الملک للموھوب له قبل القبض - اھ ومثلہ الھدایۃ وغیرھا
ہندیہ میں ہے موھوب (جوچیز ھبہ کیا) کسی کے قبضہ میں ہو تو اس پر موھوب لہ (جس کو ھبہ کیا) کی ملکیت نہ ہوگی جب تک قبضہ نہ کرلے اسی کے مثل ھدایہ وغیرہ میں ہے -
یہاں تک کہ اگر ھبہ صحیح میں واھب (دینے والا) بغیر قبضہ دئے مرجائے تو ھبہ باطل ہوجاتا ہے - فتاوی رضویہ شریف میں ہے
موانع الرجوع - من شرح التنویر المیم
موت احد المتعاقدين بعد التسليم فلو قبل بطل -
یعنی دینے والا اور لینےوالا میں سے کوئی ایک قبضہ کے بعد مرگیا تب تو ھبہ تام ہے اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک قبضہ سے پہلے مرگیا تو ھبہ باطل ہے -
ھدایہ میں ہے -
القبض لابدمنه لثبوت الملک لانه عقد تبرع وفی الإثبات الملک قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وھو التسلیم ولا یصح ولأن القبض تصرف فی ملک الواھب إذ ملکہ قبل القبض باق اھ
ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کیلئے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے جب کہ قبضہ سے قبل موھوب له (جس کو دیا) کی ملکیت ثابت کرنا تبرع (ھدیہ) کرنے والے پر ایسی چیز لازم کرنا ہے جس کا ابھی اس نے تبرع (ھدیہ) کیا ہی نہیں اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا دوسری وجہ یہ ہے کہ قبضہ دینے سے پہلے واھب (دینے والے) کی ملک ابھی باقی ہے تو قبضہ سے پہلے اس کی ملکیت میں تصرف کرنا لازم آئے گا -
صورت مسئولہ میں ھندہ نے اپنی بیٹیوں کو زیور دینے کے لئے برابر برابر حصہ الگ کردیا لیکن اس (زیور) پر قبضہ نہیں دیا تو یہ ھبہ تام نہ ہوا ھبہ میں نیت کرنے لینا اور گواہ بنا دینا کافی نہیں ہے بلکہ قبضہ دلا کر مالک بنا دینا ضروری ہے اس لئے اس کا مکمل طور مالک ابھی بھی ھندہ ہی ہے اس میں کسی کو تصرف کرنے کا اختیار نہیں -
زینب جو ھندہ کی لڑکی ہے وہ ان زیورات پر قبضہ کرنے سے پہلے انتقال کرگئی تو اس مال کا وہ مالک نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ مال اس کے ترکے کے طور پر ان کے وارثین میں تقسیم ہوں گے -
اس مال کا چونکہ مکمل مالک ھندہ (زینب کی ماں) ہے لھذا ان کو اختیار ہے کہ وہ باقی بچوں کو ھبہ کردے یا اس میں جو مال زینب کیلئے نکالا تھا اس کے نام سے صدقہ جاریہ کے طور پر دینی کاموں میں صرف کردے - واللہ اعلم بالصواب
کتبه محمد فیروزالقادری مصباحی
خادم جامعہ نبویہ ازہری محلہ رام پور مدھواپور مدھوبنی بہار
١٩ رمضان المبارک ١٤٤٢ھ مطابق ٢مئی ٢٠٢١ ء
بروز یکشنبہ بعد نماز ظہر
