حافظ احادیث کثیرہ
حضرت علامہ محمد حسین صدیقی ابو الحقانی
از:حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی چیف ایڈیٹر ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
فاضلِ اشرفیہ ، حافظِ احادیثِ کثیرہ حضرت علامہ محمد حسین صدیقی ابو الحقانی بڑی خوبیوں کے حامل اور جامع صفات شخصیت تھے، آپ کی ولادت2دسمبر 1956ء میں موضع لوکہا، ضلع مدھوبنی، بہار میں ہوئی۔آپ ایک متوسط اور دین دار خاندان کے شہزادے تھے، آپ کے والدِ گرامی کا اسمِ گرامی عالی جناب عبد الجلیل صدیقی مرحوم تھا، آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز مدرسہ تنظیم المسلمین، موضع لوکہا میں کیا۔ حسنِ اتفاق آپ کی بڑی بہن کا نکاح مولانا زبیر احمد صدیقی کے ساتھ ہوا جو پڑوسی ملک نیپال میں وضع لوہنہ کے باشندے تھے، آپ مدرسہ حنفیہ غوثیہ جنک پور دھام، نیپال میں استاذ تھے۔ آپ کے بہنوئی آپ کو نیپال کےاسی مدرسہ میں لے گئے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی [م:6صفر 1421ھ /2000ء] کی معیت میں ہم اس ادارے میں مدعو تھے۔حسنِ اتفاق حضرت مولانا ابو الحقانی بھی بحیثیت خطیب موجود تھے۔دیگر علماے کرام میں بریلی شریف سے خطیبِ اہلِ سنت حضرت مولانا توصیف رضا قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت مولانا عبد المصطفیٰ حشمتی دام ظلہ العالی بھی جلوہ گر تھے۔ اجلاس کے داعی فاضلِ اشرفیہ شیرِ نیپال حضرت مفتی محمد جیش صدیقی برکاتی تھے۔
ظاہر ہے کہ حضور شارحِ بخاری کا وصال پر ملال 2000ء میں ہوا، ہم لوگ یقیناً اس سے قبل ہی گئے ہوں گے ، یعنی یہ سفر 21 یا 22 برس پہلے کا تو ضرور ہوگا، یہ ایک یادگار سفر تھا جس کے تذکار کا یہ موقع نہیں۔
حضرت علامہ ابو الحقانی اس کے بعد مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف تشریف لے گئے، مگر وہاں آپ صرف چھ ماہ حصولِ علمکر سکے۔ آپ ایک محنتی اور باذوق طالب علم تھے ، اس کے بعد ، آپ ہندوستان کی سب سے بڑی درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور پہنچے، باضابطہ آپ کا داخلہ ہوا، پوری محنت اور دل جمعی کے ساتھ آپ نے درسی کتابوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ بڑے شوق سے کتابوں کا مطالعہ فرماتے، دل و دماغ کی یکسوئی کے ساتھ درس گاہوں میں اساتذہ کی درسی تقریریں سماعت فرماتے، مغلقاور مشکل عبارتوں کو سمجھنے کے لیے محنت کرتے، اگر خود نہیں سمجھ پاتے توادب کے ساتھ اساتذۂ کرام سے سمجھنے کی کوشش فرماتے ۔ امتحانات کے مواقع پر تکرار کرتے اور کراتے تھے۔
آپ نے عہدِ طالب علمی میں احادیثِ نبویہ کو ازبر کرنا شروع فرما دیا تھا۔ آپ کے متعدد ساتھیوں نے بھی اس کوبیان فرمایا۔ خاص بات یہ تھی کہ آپ احادیث میں اعراب وغیرہ کا مکمل اہتمام فرماتے تھے۔ آپ کے خطابات میں علما اور مشائخ اکثر موجود رہتے ، حدیث خوانی کے تعلق سے اگر کسی سے گفتگو ہوئی تو اس نے آپ کی تعریف ہی کی۔ شارحِ بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی کو کون نہیں جانتا، وہ علم و فضل کے بحرِ ناپیدا کنار بھی تھے اور نقد و نظر میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ ہم لوگ نمازِ عصر کے بعد اکثر آپ کے روم کے سامنے بیٹھتے تھے۔ ایک دن ذکر آگیا حضرت مولانا ابو الحقانی کی خطابت کا تو حضرت نے فرمایا:” مولانا حدیث بالکل صحیح پڑھتے ہیں۔“ حضور شارحِ بخاری کی تصدیق کوئی معمولی نہیں ہے۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں جن اساتذہ کی درس گاہوں میں آپ نے درسی کتابیں پڑھیں ان کے اسماے گرامی حسب ذیل ہیں:
(1)-ابو الفیض جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرہ العزیز [م:1396ھ/1976ء]، بانی الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور۔
(2)-شمس العلما حضرت علامہ شاہ قاضی شمس الدین جعفری جون پوری قدس سرہ العزیز۔[م:یکم محرم الحرام 1400ھ/9؍نومبر 1980ء]
(3)-بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی سابق صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ۔[م: 14؍محرم الحرام 1434ھ/29؍ نومبر 2012ء]
(4)-قاضیِ اہلِ سنت حضرت علامہ محمد شفیع اعظمی سابق استاذ و ناظمِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ۔[م:7؍جمادی الاخری1411ھ /25 دسمبر 1990ء]
(5)-شیخ القرآن حضرت علامہ عبد اللہ خان عزیزی ، سابق استاذ جامعہ اشرفیہ۔[م:14؍شعبان المعظم 1432ھ/ 17؍جولائی 2011ء]
(6)-محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری دامت برکاتہم العالیہ سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ۔
(7)- نصیرِ ملت حضرت علامہ شاہ نصیر الدین عزیزی دامت برکاتہم العالیہ۔ سابق استاذ جامعہ اشرفیہ۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے آپ کی فراغت 1975ء میں ہوئی۔
تدریسی خدمات:
فراغت کے بعد آپ جنک پور دھام نیپال میں جامعہ حنفیہ غوثیہ میں بحیثیت مدرس رہےاور اس کے بعد مدرسہ فیض الغربا آرہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہ معروف ادارہ شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ محمد فرید الدین جون پوری اور مولانا شاہ حکیم محمد معین الدین معین آروی کی یادگار ہے۔ آپ نے بڑی محنت سے مدرسانہ امور انجام دیے ۔یہاں آپ نے مکمل درسِ نظامی کا سلسلہ جاری فرمایا، آپ کے کثیر تلامذہ دین و دانش کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہاں آپ کو حضرت علامہ سید شاہ محمد قائم چشتی قتیلؔ دانا پوری (سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ نظامیہ دانا پور) اور ان کے لختِ جگر و جانشین پروفیسر سید شاہ طلحہ رضوی برق دانا پوری کی صحبتیں میسر آئیں، ان حضرات سے آپ نے بھر پور علمی اور روحانی فیوض و برکات حاصل فرمائے، اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرےمتعدد مقامات پر مختلف مدارس میں مختصر مختصر تدریسی خدمات انجام دیں۔
بیعت اور خلافت وا جازت:
آپ سرکار مفتیِ اعظم ہند بریلی شریف سے بیعت ہوئےتھے، نیک اور صالح بزرگ تھے، اس لیے عرب و عجم کے متعدد مشائخ نے آپ کو مختلف سلاسل کی خلافتوں اوراجازتوں سے سرفراز فرمایا، ان بزرگوں کے اسماے گرامی ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔
(1)-شیخ فضل الرحمٰن قدس سرہ ابن قطبِ مدینہ شیخ ضیاء الدین مہاجر مدنی قدس سرہ[ولادت: ربیع الثانی 1344ھ/ وصال: 27؍ شوال المکرم 1423ھ]
(2)-حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری ۔[وصال:7؍ذوقعدہ1439ھ/20؍جولائی2018ء]
(3)-صدر العلما حضرت علامہ تحسین رضا ، بریلی شریف۔ [وصال: 18؍رجب المرجب 1428ھ]
(4)-استاذ الاساتذہ مفتی رجب علی نان پارہ۔[وصال: 1؍اپریل 1998ء]
(5)-حضرت علامہ سید شاہ محمد قائم قتیل سراجی اشرفی دانا پوری علیہ الرحمہ۔
(6)-شیر نیپال حضرت مولانا جیش محمد صدیقی مصباحی ۔
بد مذہبوں کی تردید میں خطابات کی اثر انگیزی:
پالن حقانی گجراتی کا فتنہ جب شباب پر تھا اور اس کے جواب کے لیے عوام و خواص اہل سنت و جماعت کی آنکھیں کسی مسیحا کی تلاش میں تھیں، اس وقت آپ کی ذات اس فتنے کے مقابل گھڑی ہوئی اور ایسا دندان شکن جواب دیا کہ زمانے بھر میں ”ابو الحقانی“ بن کر چمکے۔
حافظِ احادیث کثیرہ حضرت علامہ محمد حسین ابو الحقانی نے اپنے خطابات کے ذریعہ کثیر ممالک میں اہلِ سنت و جماعت کی دھوم مچادی تھی، بے شمار شواہد بھی ہیں کہ جن علاقوں میں بد مذہبوں نے اہلِ سنت وجماعت کے افکار اور معمولات کے خلاف بکواس کی ، غیر مقلدوں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کی تقلید کے ساتھ مضحکہ خیزی کی، بعد میں حضرت علامہ ابو الحقانی کے خطابات ہوئے۔ آپ اپنے مخصوص انداز میں احادیث نبویہ اور اشعارِ رضویہ سے پورے علاقے میں فکروں کی روش بدل دیتے تھے۔ آپ دلائل کے ساتھ یہ ثابت فرما دیتے کہ تقلید کیوں ضروری ہے ؟ آپ قرآن عظیم، احادیث نبویہ اور شرعی دلائل کی روشنی میں اسلام کے یہ حقائق دلوں میں اتار دیتے کہ نماز میں تکبیر تحریمہ میں ہاتھ کہاں تک اٹھانا چاہیے۔ حالتِ قیام میں ہاتھ سینے پر کون باندھے اور ناف کے نیچے کون باندھے؟ آمین بالجہر کہنا چاہیے یا بالسر؟ میلاد شریف، عرس، فاتحہ، تیجہ، دسواں، بیسواں اور چالیسواں کرنا کن محکم دلائل سے ثابت ہے؟اور ان کے فضائل و مناقب کیا ہیں، انبیاے کرام اور اولیاے عظام اور دیگر اہم چیزوں کے وسیلوں سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات کو آپ احادیث نبویہ کی روشنی میں پورے طور پر ثابت فرمادیتے تھے۔
اسی طرح دیوبندیوں اور قادیانیوں کےحوالے سے جب خطابات فرماتے تو قرآن و حدیث سے پورے طور پر ثابت فرما دیتے کہ اہلِ سنت و جماعت کے تمام عقائد و معمولات شرعی حقائق ہیں، ”نبیِ آخر الزماںﷺ“ کے بعد کسی نبی کو بالفرض کی صورت میں مانا جائے یا غلام احمد قادیانی کی طرح ظلی نبی، بروزی نبی یا تشریعی نبی، یہ تمام عقائد قرآن عظیم کے مسلمہ عقیدہ کے خلاف ہیں اس لیے یہ باطل عقائد و نظریات والےبلا شبہہ قرآن عظیم اور قطعی احادیث کے خلاف اور اسلام سے خارج ہیں۔
خطابات میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترجمانی:
دونوں عالم کے مالک و مختار مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے آپ کو سچا عشق تھا ،اہلِ بیتِ عظام اور صحابۂ کرام سے محبت و شیفتگی کا اندازہ نوکِ قلم سے نوٹ کرنے سے ہم قاصر ہیں۔ تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین اور اولیاے عظام سے ان کی وارفتگیِ شوق کو ناپنے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں۔ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کے سلسلے میں تو آپ شہزادۂ اعلیٰ حضرت سرکار مفتیِ اعظم ہند قدس سرہ سے بیعت تھے۔ سلسلۂ قادریہ سے وارفتگیِ عشق کی داستان بڑی دلکش ہے۔ یہی حال سلطان الہند خواجۂ خواجگاں خواجہ غریب نواز قدس سرہ کا تھا۔ اسی طرح عقیدت کا حسنِ معاملہ دیگرعلماو مشائخ اور اپنے اساتذہ کے ساتھ رہا۔
بلا شبہہ آپ امام احمد رضا ، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہ اور خانوادۂ رضا کے بے پناہ شیدائی تھے، مبارک پور میں اپنے شیخ اور استاذ گرامی وقار حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرہ کوبھی ٹوٹ کر چاہتے تھے۔
آپ نے اپنے اکابر پر خطابات فرمائے، ان کے اعراس میں شرکت کی سعادتیں حاصل کیں، ملک اور بیرون ملک کی معروف خانقاہوں اور جامعات و مدارس میں آپ کے خطابات ہوتے جدید ذرائع ابلاغ سے شناسا ملکوں میں آپ کے عشق و علم کی آوازیں سنی جاتیں۔
اب ہم آپ کے دل و دماغ مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف کے تاج دار مجدد و مفکر امام احمد رضا محدث بریلوی کی بارگاہ میں لے چلتے ہیں۔ ہم آپ کی شخصیت پر روشنی نہ ڈال کر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نےنت نئے مسلک کی ایجاد نہیں فرمائی تھی بلکہ بد عقیدگی کے انتہائی بد ترین ماحول میں مسلکِ اسلاف کو اپنے نوکِ قلم سے رقم فرمایا تھا۔اعلیٰ حضرت کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے ، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انھوں نے نئے نظریات نہیں بلکہ قرآن اور احادیث نبویہ کی روشنی میں مسلکِ اسلاف ہی کو پیش فرما دیا ہے۔ ہاں ! آپ نے منکرینِ ناموسِ رسالت کے خلاف بھی قلم کی تلوار اٹھائی تھی، دیوبندیوں کے تابوت میں آپ نے آخری کیل ٹھونکی تھی، قادیانت، غیر مقلدیت اور دہریت کے چہروں سے نقاب الٹی تھی، اس لیے آپ کے دور میں اس تردیدِ باطل کو” مسلکِ اعلیٰ حضرت“ کا نام دے دیا گیا، ورنہ ہم اہلِ سنت و جماعت شرعی اور فقہی مسائل میں حضور امام اعظم ابو حنیفہ کی تقلید کرتے ہیں۔
جہاں اور جن علاقوں میں امام احمد رضا کی شخصیت و فکر کے خلاف کوئی باطل پرست بد زبانی کرتا ، ان کی کتابوں کا مذاق اڑاتا تو حضرت علامہ ابو الحقانی اعلیٰ حضرت کی شخصیت اور ان کے پیش کردہ افکار و معمولات ، جو در اصل اسلاف ہی کے ہوتے تھے، آپ ان کے اثبات میں مکمل کاوش فرماتے اور اعلیٰ حضرت کی نورانی شخصیت اور افکار کی تجلیات کو واضح فرما دیتے۔
ایک بار جمنا پار دہلی میں عظیم الشان کانفرنس تھی۔ حضور تاج الشریعہ قدس سرہ سرپرستی فرما رہے تھے، حضرت کا مدلل خطاب ہوا، جس میں حسبِ روایت احادیثِ نبویہ کو پڑھا گیا اور انھیں کی روشنی میں عقائدِ اہلِ سنت اور معمولات اہلِ سنت کو ثابت فرمایا۔ اعلیٰ حضرت کے اشعار پڑھ پڑھ کر مسائل کو منقح فرمایا۔ تقریر کے بعد حضور تاج الشریعہ قدس سرہ نے خطبہ سرپرستی پیش فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ ”مولانا نے جو بیان فرمایا یہی مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے، یہی فکرِ رضا کی ترجمانی ہے۔“
حرمین طیبین میں امام احمد رضا کے افکار کی ترجمانی:
یہ تو سب جانتے ہیں کہ حرمین طیبین انتہائی مقدس مقامات ہیں، جب ترکوں کی حکومت رہی سب کچھ اپنے میزان پر تھا، تاریخی آثار کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ رکھا جاتا تھا، میلاد النبی ﷺ میں جشنِ چراغاں ہوتا، عشق و وارفتگی میں ڈوب کر صلاۃ و سلام کے گجرے پیش کیے جاتے تھے۔ ایک معتبر راوی کا بیان ہے کہ ایک بار آپ حرم میں شریف میں حضور تاج الشریعہ بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف اور دیگر علماے کرام بھی جلوہ گر تھے ، چند عرب شیوخ بھی آکر بیٹھ گئے ۔ ان عربوں کا اصرار ہوا کہ آپ حضرات کچھ خطاب فرمائیں۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی بعد میں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ نے حضرت مولانا ابو الحقانی کو اشارہ فرمایا، بفضلہٖ تعالیٰ وبکرمِ حبیبہ الاعلیٰ آپ کھڑے ہو گئے ، آپ نے خطبۂ مسنونہ کے بعد ایک موضوع پر احادیث پڑھنا اور گاہے بگاہے عربی میں توضیح فرمانا شروع کیا۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں جب موضوع کا اثبات سامنے آیا تو سامعین جھومنے لگے اور عرب شیوخ بھی حد درجہ متاثر ہوئے۔ خطاب کے بعد وہ عرب آپ سے بے حد متاثر ہوئے اور آپ کے شیدائی اور فدائی ہو گئے۔ اب اس کے بعد آپ جب بھی حرمِ محترم میں تشریف لے جاتے تھے وہ عرب بڑی عقیدت و محبت سے ملاقات فرماتے اور اپنی قیام گاہوں پر لے جاتے تھے۔
در اصل آپ کی قیادت میں سالانہ حج و زیارت کے لیے قافلہ جاتا تھا، اس لیے آپ نے کثیر بار حج و زیارت کی سعادت حاصل فرمائی، امید ہی نہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس خانۂ کعبہ میں کی ہوئی دعائیں قبول فرمائے گا اور بلا شبہہ بارگاہِ رسول ﷺ سے تو پہلے ہی شفاعت کا مژدۂ جاں فزا مل چکا ہے۔
اب ہم ذیل میں آپ کے لختِ جگر حضرت مولانا محمد تحسین رضا مصباحی کا تحریر کردہ ایک تاثر نقل کرتے ہیں۔ یہ عینی مشاہدہ خود انھیں کا ہے اور حضرت علامہ ابو الحقانی کی نظر سے بھی گزرا ہے، اس لیے اس کی تصدیق کے لیے مزید کسی شہادت کی ضرورت نہیں۔
شہزادۂ والا تبار رقم طراز ہیں:
” اس بندہ بے توقیر کو جب پہلی بار آپ کے ہمراہ حرمین طیبین کے مبارک سفر کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی شاید بعض قاری کو بھی حیرت ہو کہ حرمین شریفین میں بھی پورے تزک واحتشام کے ساتھ محفل میلاد کا انعقاد ہوتا ہے، مگر اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ کی تقریر کے دوران ہال نعرہ تکبیرورسالت، مسلک اعلیٰ حضرت زنده یاد اور اعلیٰ حضرت کا دامن نہیں چھوڑیں گے کے نعروں سے گونج اٹھا۔ بعض پرانے سامعین نے بتایا کہ یہاں آکر جہاں بہت سے سیدھے سادھے لوگ اپنے دین و مسلک سے پھر کر وہابی بن جاتے ہیں وہیں رہ کر اگر ہم لوگ اب بھی مسلک پر ڈٹے ہوئے ہیں تو آپ کے والد (مولانا ابوالحقانی) کی کوششوں کا نتیجہ ہے، پھر سامعین میں سے ایک انتہائی ضعیف العمرشخص نے بتایا کہ تقریبا پچھلے ستائیس سال سے والد گرامی (مولانا ابوالحقانی) کی آمد یہاں ہوتی ہے، میں نے پوچھا: ان کی تقریر سے آپ نے کیا سیکھا جواباً انھوں نے کہا کہ سیکھا تو بہت کچھ مثلاً حرمین شریفین کی فضیلت، اللہ کی وحدانیت، حضور کی رسالت، اہل بیت کی محبت، بزرگان دین سے عقیدت۔ میں نے پوچھا: اور کچھ؟ تو کہنے لگے : ہاں، اعلیٰ حضرت اور مسلک اعلیٰ حضرت سے محبت۔“
آپ کےخطابات اور حضرت بحر العلوم کی نوازش:
حضرت علامہ ابو الحقانی نے 1975ء میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے فراغت حاصل فرمائی، ان دنوں بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان اعظمی قدس سرہ جامعہ میں بلند پایہ استاذ تھے اور تمام طلبہ سے بھی حد درجہ محبت فرماتے تھے۔ حضرت علامہ ابو الحقانی نے جب خطابت کی دنیا میں اپنی انفرادیت اور مقبولیت حاصل کی تو ایک استاذ گرامی کا اپنے تلمیذ رشید سے محبت کرنا لازمی تھا، مگر یہ ذہنی اعلیٰ سوچ کی بات ہوتی ہے ورنہ بہت سے اساتذہ اپنے تلامذہ کی کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پاتے، ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جب میدان میں یہ کامیاب اور مقبول ہو جائیں گے تو ہم کہاں جائیں گے۔ حضرت مولانا ابو الحقانی کی یہ تحریر دسمبر 2012ء کی ہے اس لیے کہ یہ” تجلیات رضا بریلی شریف“ کا ”بحر العلوم نمبر“ عرس چہلم پر شائع ہو چکا تھا اور وصال 29 نومبر 2012ء میں ہوا تھا۔ اب مولانا ابو الحقانی کے قلم سے بحر العلوم کے تاثرات ملاحظہ فرمائیے:
”چند یادیں اور باتیں جو مجھ سے وابستہ ہیں تحریر کر دوں تا کہ قارئین اندازہ لگائیں کہ آپ[حضرت بحر العلوم] اپنے شاگردوں پرکس قدرشفقت و مہربانی فرمایا کرتے تھے۔ آج سے تقریبا 25سال قبل مدرسہ شمس العلوم گھوسی کے ایک جلسے میں اراکین ادارہ نے مجھے مدعو کیا۔ میرے علاوہ اور بھی خطبا وشعرا شریک اجلاس تھے۔ ہر ایک کو ناظم جلسہ دعوت سخن دیتے رہے اور جب میری باری آئی تو حضور بحرالعلوم خود مائک پر تشریف لے گئے ، بڑی محبتوں اور توصیفی جملوں سے نوازتے رہے میں اندر ہی اندر اپنی کم مائیگی پر لجا تارہا مگر یہ بڑوں کی بات ہے۔ واقعی جو بڑے ہوتے ہیں اپنے چھوٹوں سے یوں ہی پیار اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ حضرت کے وہ محبت بھرے جملے یقیناً میرے روشن مستقبل کے لیے منارۂ نورثابت ہوئے۔“
حضرت علامہ ابو الحقانی بریلی شریف میں حضرت بحر العلوم کی نوازش پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”2011ء میں عرس رضوی کے موقع سے نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ شاہ منان رضاخاں صاحب قبلہ منانی میاں کے مدرسہ نوریہ رضویہ میں حضرت بحر العلوم اسٹیج پر جلو بار تھے، جب نقیب اجلاس نے میرا اعلان کیا تو میں نے عرض کیا : حضور دعافرمادیں۔ حضرت نے فرمایا :میاں!یہ میری ہی دعا کا تو اثر ہے کہ ملک اور بیرون ملک لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکے ہواور جہاں جس اسٹیج پر پہنچ جاتے ہو کامیابی کی ضمانت بن جاتے ہو۔ پھرمزاحاً ارشاد فرمایا :تقریرکا صدقہ دیا کرو۔ میں نے عرض کیا :حضورتقریر کا صدقہ کیا ہوگا؟ تو فرمانے لگے کبھی کبھی نذرانہ کم لیا کرو۔
بنگلور کے ایک دورہ میں تقریباً میری ساٹھ تقریر یں ہوئیں۔ کسی نے فون پر حضور بحر العلوم کو بتایا کہ مولانا ابوالحقانی صاحب کا پورے شہر میں بڑا کامیاب خطاب ہورہا ہے مجمع کنٹرول سے باہر ہے، سامعین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ہجوم قابل دیدنی ہے تو حضرت نے فرمایا میاں تقریر تم کرناٹک میں کر رہے ہو اور تمہاری خطابت کی خوشبو مجھے گھوسی میں مل رہی ہے۔“ [بحر العلوم نمبر ، ص:472]
ہماری شناسائی اور ملاقاتیں:
جہاں تک ہمیں یاد ہے کہ آپ سے شناسائی تو عرصہ دراز سے ہے۔ جن مجلسوں، کانفرنسوں اور اعراس میں ملاقاتیں ہوئیں ان کی تعداد بھی کثیر ہے۔ متعدد بار حضور حافظ ملت قدس سرہ العزیز کے عرس مبارک میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہ کے اعراس کے مواقع پر بریلی شریف میں آپ کے خطابات بھی سماعت کیے، سامعین اور حاضرین کو اپنے محدثانہ خطابات سے حد درجہ مسرور کیا، اعلیٰ حضرت کے نعتیہ اشعار اور وہ بھی احادیث کی تشریحات کے لیے ،علماو مشائخ کے دل و دماغ کو باغ باغ فرما دیا۔ مجمع پر تو ایسا کنٹرول کرتے تھے کہ شاید سامعین سانس لینا بھی بھول جاتے تھے۔
بھیلی بازار مبارک پور میں سالانہ تاریخی اجلاس ہوتا ہے در اصل یہ پروگرام جشن عید میلاد النبی ﷺ، یاد غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی اور عرس امام الاولیا سریا شریف کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ خانقاہ عالیہ قادریہ نقشبندیہ ، سریا شریف، ضلع اعظم گڑھ، یوپی اسی پروگرام کی مکمل سرپرستی فرماتی ہے۔ صاحب عرس امام الاولیا حضرت علامہ سید شاہ محمد قاسم میاں قادری نقشبندی قدس سرہ حسن اتفاق جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نامور فاضل اورحضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہ کے شاگرد رشید ہیں۔ آپ کے متعدد صاحب زادگان ہیں۔ پہلی اہلیہ سے دو بزرگ فاضل جلیل ہیں پیر طریقت حضرت مولانا سید شاہ حامد حسن قادری جیلانی دامت برکاتھم العالیہ، یہی بزرگ اپنے والد ماجد کے جانشین ہیں اور مبارک پور سالانہ عرس کی صدارت فرماتے ہیں۔ اور دوسرے بزرگ ہمارے ہم جماعت صاحب فیض بزرگ حضرت علامہ سید محمد اشرف قادری جیلانی دامت برکاتہم القدسیہ ہیں۔ موصوف پہلے دارالعلوم محمدیہ ممبئی میں معتبر استاذ تھے بعد میں باؤلا مسجد ممبئی کے خطیب و امام اور کل ہند شیخ طریقت ہیں۔ حضرت مولانا محمدحسین ابو الحقانی کو یہی بزرگ مدعو فرماتے تھے۔ یہ پورا خانوادہ احقر مبارک حسین مصباحی عفی عنہ سے حد درجہ محبت فرماتا ہے اور بھیلی بازار کے نقشبندی حضرات بھی بے پناہ نوازش فرماتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق دو بار حضرت مولانا ابو الحقانی بحیثیت خصوصی خطیب مدعو ہوئے اور حسب عادت جان دار اور شان دار خطابات فرمائے۔
جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرامپور تو حضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہ کی زیر صدارت تھا، حضور حافظ ملت کے وصال کے بعد آپ کے لختِ جگر حضور عزیز ملت دامت برکاتھم العالیہ کی زیر صدارت ہے۔ اس ادارے کے جلسوں اور کانفرنسوں میں متعدد بار حاضری کا ہم نے شرف حاصل کیا ہے۔ چند برس پہلے اسی ادارے کےجشن میں حضرت علامہ ابو الحقانی بھی مدعو تھے اور حسن اتفاق ہم دونوں کا قیام بھی ایک ہی مقام پر تھا۔ پروگرام میں لگ بھگ بارہ بجے ہم دونوں کو بلایا گیا پہلے ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ باتیں پیش کیں اور آخر میں آپ نے احادیث نبویہ کے دریا بہاتے ہوئے اعلیٰ حضرت کے اشعار کی خوشبوؤں سے معطر کیا اور اسٹیج سے سامعین تک سب کو سرشار فرما دیا۔
باڑا ہندو راؤ دہلی میں حضرت قاضی اہلِ سنت مفتیِ اعظم دہلی محمد میاں ثمر دہلوی سجادہ نشیں خانقاہ مسعودیہ مظہریہ مسجد شاہی فتح پوری، دہلی نور اللہ مرقدہ ایک عظیم صوفی صفت بزرگ تھے۔احقر مبارک حسین مصباحی عفی عنہ سے حد درجہ محبت فرماتے تھے، روحانی علاج میں کم از کم ہماری نگاہ میں ان جیسا تقویٰ شعار دہلی کی سر زمین پر کوئی دوسرا نہیں تھا، اگر انھیں معلوم ہو جاتا کہ ہم دہلی پہنچے ہوئے ہیں تو وہ فون کرتے یا کسی خادم کو حکم دیتے اور کھانے کے لیے حکم فرماتے، ہم نے متعدد بار ان کے در دولت پر ناشتے اور کھانا کھانے کا شرف حاصل کیا ہے۔ حضرت قاضی اہل سنت شاہی جامع مسجد دہلی اتری گیٹ کے سامنے اردو پارک میں عظیم الشان پیمانے پر” عرس مجددین“ کا انعقاد فرماتے تھے مجددین سے مراد یہ دو عظیم مجدد تھے، پہلی شخصیت امام ربانی شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس سرہ [وصال:28صفر 1034ھ/ 15دسمبر1624ء] دوسری اہم شخصیت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ [وصال: 25 صفر 1340ھ/ 1921ء] اس عرس میں متعدد بار خطابات کرنے کا ہم نے شرف حاصل کیا ہے۔ اس اہم پروگرام میں متعدد بار حضرت علامہ ابو الحقانی بھی مدعو تھے۔ ایک بار ربیع الاول شریف کے موقع پر بھی ہم دونوں مدعو تھے۔ اس موقع پر حضرت علامہ ابو الحقانی سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ آپ نے بہار کی ایک بڑی کانفرنس کا واقعہ سنایا انھوں نے نام لے کر ایک دوسرے خطیب کا ذکر فرمایا در اصل وہ حضرت بھی اپنے خطابات میں احادیث نبویہ پڑھتے ہیں آپ نے ان کا ادب سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے پہلے ہمارا خطاب ہوا ہم جانتے تھے کہ موصوف فلاں حدیث پڑھتے ہیں مگر ہم نے پہلے ہی اس حدیث شریف کو پڑھ دیا اس کے بعد ان بزرگ نے حضرت علامہ ابو الحقانی سے اظہار مسرت فرماتے ہوئے کچھ ارشاد فرمایا جس کا ذکر اس تحریر میں مناسب نہیں۔
ایک بار محرم الحرام کے موقع پر ممبئی میں شرف ملاقات حاصل ہوا اس وقت ہم شہزادۂ حضور حافظ ملت قاری عبد القادر جیلانی ، اور معروف شاعر واصفؔ عزیزی بھوجپوری کی معیت میں تھے۔ ملاقات کے وقت حضرت واصفؔ عزیزی نے حضرت مولانا ابو الحقانی سے حضرت قاری صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت فرمایا: آپ انھیں جانتے ہیں؟ حضرت علامہ ابو الحقانی نے فرمایا: انھیں کون نہیں جانے گا ان کے والد گرامی حضور حافظ ملت قدس سرہ کے فیوض و برکات سے ہمارا پورا وجود سرشار ہے۔ اس کے بعد دیر تک آپ سے گفتگو ہوئی، آپ سے ممبئی میں متعدد بار ملاقاتیں ہوئیں۔ اور بھی ملک کے مختلف خطوں میں کثیر پروگراموں میں آپ سے شرف نیاز حاصل ہوتا رہا۔
تعلیمی، تبلیغی اورتعمیری کارگزاریاں:
(1)-آبائی گاؤں لوکہا میں دار العلوم رضاے مصطفےٰ قائم کیا۔
(2)- دربھنگہ میں بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جامعہ فاطمۃ الزہرا قائم فرمایا ۔ یہ طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت مفید ادارہ ہے۔ اس سے کثیر بچیوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی ہے۔ آپ اس ادارے کے بانی اور سربراہِ اعلیٰ تھے، جب کہ آپ کے بڑے فرزند ارجمند محب مکرم حضرت مولانا مفتی محمد تحسین رضا مصباحی دام ظلہ العالی اس کے ناظمِ اعلیٰ ہیں۔
(3)- آر ایس ایس میموریل ہاسپیٹل بنوایا ، اس ہاسپیٹل نے بھی قوم کے معالجات میں بڑی آسانیاں پیدا کیں۔
اور کمشنری سطح کی تنظیم جمعیۃ العلما کی بنیاد ڈالی۔ ان اداروں اور تحریکوں سے یادگار کارنامے انجام دیے ، تنظیم کے افتتاح کے موقع پر 8 مارچ 2000 ء کو دربھنگہ کے ایک وسیع میدان میں امام احمد رضا عالمی کانفرنس کی، اس میں ۱۵؍ بچیوں کی شادیاں فرمائیں اور ہر بچی کو پندرہ پندرہ ہزار روپے بطور تحفہ پیش کیے گئے، دوسری دو روزہ کانفرنس میں ایک شب خواتین کا جلسہ تھا جس سے خواتین میں علمی اور اصلاحی بیداری آئی۔
آپ نے اپنے علاقے میں متعدد مساجد اور مدارس تعمیر کرائے، جب کہ ملک بھر میں کثیر مدارس کے سرپرست تھے۔
قلمی خدمات:
حضرت مولانا محمد حسین صدیقی ابو الحقانی کی شہرت و مقبولیت ان کے معلومات افزا خطابات کی وجہ سے ہے۔ہم اس وقت آپ کی تصنیف و تالیف اور مضمون نگاری کے حوالے سے کچھ گفتگو کریں گے۔
آپ کے قلم میں متانت و سنجیدگی ہے ۔ عام طور پر قرآن عظیم اور احادیث نبویہ سے استناد فرماتےہیں۔ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کی فتاویٰ رضویہ اور دیگر کتابوں سے بھر پور استفادہ فرماتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ آپ کو امامِ شعر و ادب اعلیٰ حضرت کی حدائق بخشش تو لگتا ہے، آدھی سے زیادہ زبانی یاد تھی۔ وجہ یہ ہے کہ حدائق بخشش اردو نعت کا سب سے عظیم شاہ کار ہے۔ ایک عظیم مجدد جب لکھتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں قرآن عظیم اور احادیث نبویہ کے ذخائر ہوتے ہیں۔ نعت اصطلاحی طور پر ”ذکرِ رسول ﷺ“ کا نام ہے ۔ تعریف کی پیچیدگی سےاعتراضات و جوابات کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تعریف میں ذات و صفات کا ہر گوشہ شامل ہے اور اس میں معاندین مصطفےٰ ﷺ کی تردیدات بھی شامل ہیں۔ مگر ہزار کد و کاوش کے باوجود بھی کوئی نعت نگار ذات و صفات کے ابتدائی درجے میں بھی نہیں پہنچ پایا۔ اسی لیے ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ نے نعت نگاری میں اپنی کوتاہ فکری کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا ہے
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
نعت گوئی کے تاج دار امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اتنا فرما کر ہی ”ختم سخن“ کر دیا
لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے
ہم نے آپ کی حسب ذیل کتابوں کے بارے میں پڑھا ہے:
(1)-خطباتِ ابو الحقانی۔
(2)-حاظر و ناظر۔
ان دونوں کتابوں کا طرزِ نگارش یہ ہے کہ قرآنی آیات، اس کے بعد احادیثِ نبویہ اور گاہے بگاہے حسبِ ضرورت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے اشعار۔ آپ دونوں کتابوں کا مطالعہ فرمائیں، آپ کو اندازہ ہوگاکہ حضرت کی نگاہ میں موضوعات کی مناسبت سے قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ رہتی تھیں، اسی لیے بر وقت دونوں کو نوٹ فرما دیتے تھے اور نہ صرف یہ، نوٹ فرما دیتے تھے بلکہ موضوع کی تائید میں توضیح و تشریح بھی بھر پور فرما دیتے تھے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ آیات و احادیث کے مطابق حدائق بخشش سے اشعار بھی نقل فرما دیتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، آپ نے محنت سے قرآن اور احادیث کا مطالعہ فرمایا تھا اور نہ صرف یہ کہ مطالعہ فرمایا تھا بلکہ کثیر آیات اور سیکڑوں احادیث آپ کو ازبر تھیں، اسی طرح امام احمد رضا قدس سرہ، علامہ حسن رضا بریلوی اور حضور مفتیِ اعظم ہندکے کثیر اشعار بھی آپ کو حفظ تھے۔
(3)-دینے والا ہے سچا ہمارا نبی۔
اس کتاب میں آپ نے حضور ﷺ کے جود و سخا کو قرآن اور احادیث کے دلائل سے ثابت کیا ہے صحابۂ کرام اور اولیاے عظام کے عقائد و معمولات سے بھی مبرہن فرمایا ہے ، آپ نے واقعات و شواہد سے آپ ﷺ کا سخی اور فیض رساں ہونا ثابت فرمایا ہے۔
(4)-ضیاے حدیث۔
یہ زریں کتاب چالیس احادیث قدسیہ پر مشتمل ہے۔ اس میں بھی گراں قدر، مختلف اور مفید عنوانات ہیں۔ عشق و عقیدت سے لبریز آپ کی توضیحات ہیں ، موضوعات کی مناسبت سے اشعار بھی خوب ہیں، بفضلہٖ تعالیٰ آپ کی یہ کتاب بھی خوب مقبول ہوئی
(5)-حق کی تلوار۔
اس میں آپ نے باطل فرقوں کی بیخ کنی فرمائی ہے اور حق یہ ہے کہ موضوع کا حق ادا فرما دیا ہے۔
(6)- جنتی کون؟
اس تصنیف میں آپ نے وہابیہ اور دیابنہ کے عقائد و معمولات کا بطلان کیا ہے ۔ یہ در اصل موڈ بیدری کوئے باگل کے مناظرے کی روداد ہے، آپ نے مناظرے میں جن موضوعات پر باطل پرستوں کو شکست فاش دی تھی، انھیں مباحث کو عوام کے فائدے کے لیے مرتب فرما دیا ہے۔
(7)-صدقات:
یہ کتاب صدقات کے فضائل پر ہے ، ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ ”صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھاتا ہے اور بری موت کو ٹالتا ہے“۔ اسی طرح آپ نے اس میں دیگر احادیث نقل فرما کر معلومات افزا گفتگو فرمائی ہے۔
(8)-زیارات:
اس کتاب میں عراق کے بزرگانِ دین میں سے چند کا قدرے تفصیلی تذکرہ ہے کہ زائرین جن کی زیارت کے لیے متعدد ممالک سے آتے ہیں تو ٹور والے بزرگوں کے حالات سے واقف نہیں ہوتے، وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ کا مزار ہے جو کہ پہلے سے ہی لکھا ہوتا ہے اس کتاب کے مطالعے سے زائرین صاحبِ مزار کے احوال و حیات ، ان کی دینی اور تبلیغی خدمات سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اور زائرین کو دین و سنیت پر قائم رہنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
(9)-اربعین حقانی عن روایات البخاری ۔
2020 کے لاک ڈاؤن اور کرونا کی وبا کے دوران آپ نے اسے مرتب فرمایا۔ یہ ضخیم اور اہم کتاب پریس جا چکی تھی، اس میں چالیس احادیث اصح الکتاب بعد کتاب اللہ جامع صحیح بخاری سے منقول ہیں۔ اس میں مختلف عنوانات ہیں۔ بلا شبہہ آپ نے ان چالیس احادیث کی توضیح اور تشریح کے لیے احادیث نبویہ کے بیس دیگر متون سے بھی لگ بھگ دو سو احادیث نقل فرمائی ہیں۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ ابھی یہ کتاب پریس سے شائع ہو کر نہیں آسکی، اسی دوران آپ بارگاہِ الٰہی میں بلا لیے گئے، گویا کہ یہ تشریحات احادیث پر انعام الٰہی ہے۔
آپ نے عنوانات میں عصر حاضر کے تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ اس میں ارشادات رسول ﷺکی روشنی میں عقائد اور معمولات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ بد عقیدوں کی فکری اور عملی اصلاح کی طرف بھی سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش کی گئی ہے۔ احادیث نبویہ پر مشتمل یہ اہم کتاب علما اور عوام سب کے لیے یکساں مفید ہے۔
باقی تحریروں میں بھی وہ سب کچھ ہے جو ایک بین الاقوامی خطیب ، حافظِ احادیث کثیرہ اور باشعور قلم کار سے جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔
آپ نے اپنے بہت سے اکابر و مشائخ پر مضامین لکھے اور قلم سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سرِ دست ہمارے سامنے آپ کے دو وقیع مضامین موجود ہیں۔
حضرت بحر العلوم کے تعلق سے آپ کا گراں قدر تاثر:
واقعہ یہ ہے کہ آپ خطابت ہی میں منفرد نہیں تھے، بلکہ جب قلم لے کر بیٹھتے تو بڑی حد تک نثر نگاری کا بھی حق دا فرما دیتے تھے۔ جب سال نامہ تجلیاتِ رضا بریلی شریف نے حضرت مفتی عبد المنان اعظمی کے عرس چہلم کے موقع پر ”بحر العلوم نمبر“ نکالا تو آپ نے بھی گراں قدر مضمون تحریر فرمایا۔ اس کا ایک اقتباس ذیل میں پڑھیے:
”کسے خبر تھی کہ ایک غیر معروف خاندان میں آنکھیں کھولنے والا بچہ اوصاف و کمالات کی اتنی شاخوں پراپنانشیمن تعمیر کرے گا اور جن کی بارگاہِ علم وفضل میں بڑے بڑے لوگ کشکول تمنا لیے ہاتھ باندھے صف میں کھڑے ہوں گے، جہاں سے فقہ وحدیث کا جام چھلکے گا، تہذیب وشعور کا اجالا پھوٹے گا، علم معانی و بلاغت کی کرنیں نمودار ہوں گی ، زبان وادب کے چشمے ابلیں گے اور ایک عالم سیرابی حاصل کرے گا۔ پورے برصغیر میں آپ انفرادی شان کے مالک تھے، علم حدیث پڑھائیں تو حضرت امام بخاری ومسلم کی بابرکت محفل یاد آنے لگے، علم کلام اور منطق و فلسفہ کی باریکیاں بیان کریں تو رازی وغزالی کا احساس جاگ اٹھے ،فقہ پرگفتگوکریں تو حضور حافظ ملت کے تفقہ کا وقار نگاہوں میں چھا جائے اور جب کرسیِ خطابت پر رونق افروز ہوں تو قرآن وحدیث سے آراستہ تقریر کے نور سے پورا پنڈال روشن ہوجائے ، درس گاہ کے جملہ فنون پر پوری دستگاه رکھتے تھے، کسی بھی فن کی کتاب ہو اور ادق سے ادق مسائل ہوں، بڑی آسانی کے ساتھ نفس مسئلہ کوطلبہ کے ذہن میں اتار دیتے۔ مدتوں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے شیخ الجامعہ اور رئیس الاساتذہ کے عہده کو زینت بخشی اور تقریباً 25-26سالوں تک مدرسہ شمس العلوم گھوسی میں بھی شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے اور پوری زندگی انسانی سیرت و کردار کی تشکیل وتعمیر کرتے رہے ۔“
[بحر العلوم، ص:471]
(2)-صدر العلما علم و عمل کا آفتاب:
مظہرِ مفتیِ اعظم صدر العلما حضرت علامہ شاہ تحسین رضا خاں قادری برکاتی رضوی محدث بریلوی قدس سرہ العزیز شہید 18رجب المرجب 1428ھ مطابق 3 ؍اگست 2003ء۔
آپ کی شخصیت و خدمات پر 640 صفحات کا تجلیات رضا بریلی شریف نے ”صدر العلما محدث بریلوی نمبر“ شائع کیا۔ اس یادگار سال نامہ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں مصنفِ کتبِ کثیرہ حضرت علامہ محمد حنیف خاں رضوی دامت برکاتہم العالیہ۔ اس خصوصی نمبر میں حضرت مولانا محمد حسین صدیقی مصباحی ابو الحقانی نے بھی ایک گراں قدر مضمون رقم فرمایا تھا۔ دو صفحات پر مشتمل اس تحریر میں ہمارے حضرت نے بہت کچھ رقم فرما دیا ہے۔ موضوع ہے: ”صدر العلما علم و عمل کا آفتاب“۔
حضرت تحریر فرماتے ہیں:
” آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے ہر خاص و عام برابر تھے۔ کسب فیض کی آزادی یکساں سبھوں کو حاصل تھی، اس کے لیے امیری،غریبی کی کوئی تفریق نہیں پائی جاتی تھی ۔ جس طرح دولت مندوں سے ملتے تھے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ خندہ پیشانی سے آپ غریبوں کی تسکین کا سامان فراہم کرتے تھے، امیروں کے لیے آپ کے یہاں کوئی خصوصی رعایت یا امتیاز نہیں پایا جاتا تھا۔ قرب و بعدکے علماوطالبان علوم اسلامیہ، ائمۂ اکرام وحفاظ قرآن کو بڑی قدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ ان کے مسائل کو بڑی توجہ سے سنتے تھے اور نزاعی مسائل بڑی خوبی سے جواب شافی کے ذریعہ فی البدیہہ اس انداز میں حل فرماتے کہ سبھوں کو اطمینان حاصل ہو جاتا۔ بندگان خدا کی خدمت کے لیے ان کی حاجات و ضروریات کی خاطر ہمیشہ فی سبیل اللہ حاضر رہتے۔“
حضور صدر العلما بلا شبہہ محدث بریلوی ، عارف باللہ اور ولیِ کامل تھے۔ تصوف کے بنیادی مآخذ ، قرآن عظیم اور احادیث نبویہ میں ان دونوں سرچشموں پر آپ کی بھر پور نظر تھی، بلکہ ان دونوں کو زندگی بھر آپ درس گاہوں میں پڑھاتے رہے۔ تصوف میں چھوے بڑے ، امیر غریب کا کوئی فرق نہیں ہوتا، ہاں دینی علوم کے ماہرین کو آپ دولت مندوں پر فوقیت دیتے تھے اور یہ چیز عند الشرع قرآن و احادیث کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ یہ تمام اوصاف و کمالات صرف کتابیں پڑھنے سے نہیں بلکہ صوفیاے کرام کی خدمت اور سچی محبت سے حاصل ہوتے ہیں۔ بلا شبہہ آپ اعلیٰ علمی اور صوفی خاندان کے فرد فرید تھے۔ حضور مفتیِ اعظم ہند نور اللہ مرقدہ سے بہت کچھ حاصل کیا۔
آپ مزید تحریر فرماتے ہیں:
”دعا یا تعویذ پر کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ اس معاملہ میں اپنے اسلاف خصوصاً اعلیٰ حضرت کی سختی کے ساتھ پیروی کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں اور تعویذات میں اثر عطا کیا تھا کہ جس کو دے دیتے وہ شفایاب ہو جاتا ،جس پرایک نظر ڈال دیتے اس کے دل کی دنیا بدل جاتی۔
کہاں سے تونے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا بادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا“
دعا اور تعویذ میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے ایک کامل معوذ کو دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہونا پڑتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حرص و ہوس اور شہرت و دولت سے بڑی حد تک بے نیاز فرما دیا تھا ۔ اس لیے آپ کی دعا اور تعویذ میں پروردگار نے اثر انگیزی پیدا فرما دی تھی۔
تجہیز و تکفین:
آپ ایک جامع صفات شخصیت تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیارے حبیب ﷺ کے طفیل ملک اور بیرون ملک کامیابیوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ آپ کا وصال پر ملال 23 محرم الحرام 1442ھ /12ستمبر 2020ء کو ہوا۔ آپ کثیر ممالک میں مشہور تھے۔ وصال کی خبر سے غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ ہم نے بھی کلماتِ استرجاع پڑھ کر ان کے لیے دعاے مغفرت کی۔ آپ کے پانچ فرزند ہیں۔ محبِ گرامی مولانا مفتی تحسین رضا مصباحی دام ظلہ العالی ناظمِ اعلیٰ جامعہ فاطمہ زہرا دونار چوک، دربھنگہ، بہار۔ جناب محمد ریحان رضا، جناب محمد فیضان رضا، جناب محمد عادل رضا، جناب محمد واقف رضا اور ایک صاحب زادی ہیں۔ 13ستمبر 2020 کو فاضلِ اشرفیہ حضرت مولانا مفتی محمد تحسین رضا مصباحی دام ظلہ العالی نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جنازے میں حدِ نظر مجمع تھا، جنازے کے ہجوم میں نعتیں پڑھی جا رہی تھیں، تکبیر و رسالت کے نعرے لگ رہے تھے اور کلماتِ طیبات کا ورد جاری تھا۔ انتہائی غم و افسوس کے ساتھ بہار کے ضلع مدھوبنی میں واقع ان کے آبائی گاؤں لوکہا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ آخری لمحات ان کے چاہنے والوں کے لیے بڑے حساس اور نازک تھے۔ دعا ہے مولا تعالیٰ آپ کی خوب خوب مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں بلند ترین مقام عطا فرمائے، فرزند ارجمند مولانا مفتی محمد تحسین رضا مصباحی دام ظلہ العالی، دیگر صاحب زادگان،۔متعلقین اور معتقدین کوصبر و شکر کی تو فیق ارزانی فرمائے، آمین۔ بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭٭٭٭٭
