مذہبی جلسوں کا بگڑتا مزاج اسباب اور حل*
از مفتی فیروزالقادری مصباحی
برگ حنا پہ لکھتا ہوں درد دل کی بات
شاید کہ رفتہ رفتہ لگے دلربا کے ہاتھ
یہ بات کسی صاحب دل سے پوشیدہ نہیں کہ آج جلسے بے ترتیب، بلااغراض و مقاصد،بے عنوان اور بے مقصد ہورہے ہیں جس کے منفی اثرات اس امت پر خوب خوب مرتب ہوئے ہیں دینی و مذہبی پاکیزہ جلسوں کے نام پر پوری رات غیبت، برائی، لعن طعن، گالی گلوج کا بازار فاحش سجایا جاتا ہے (الا ماشاءاللہ) -
*اسباب وعلل*
*اوقات جلسہ*
غیر مؤثر جلسوں کے اسباب میں سے ایک اوقات کا بے دریغ قتل بھی ہے - بعد نماز عشاء سے گیارہ، بارہ بجے رات تک سامعین جلسہ میں گفتگو سننے کا مزاج رکھتے ہیں اس کے بعد کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہمارے شعراء و خطباء کے بوجھ کو برداشت کرکے واپسی کی راہیں نکالنے میں مستغرق ہوجاتے ہیں جب کہ گیارہ بجے جلسہ شروع ہی ہوتا ہے.
*شعراء وخطباء*
تقریباً تمام شعراء و خطباء اپنے اوقات کا اکثر حصہ لایعنی باتوں میں صرف کردیتے ہیں اور مہتمم جلسہ اور خودساختہ پیروں کے قصائد پڑھنے میں القاب و آداب کا گلا گھونٹتے ہوئے منصب نبوت و رسالت کے سوا تمام منصب پر فائز کردیتے ہیں جس سے القاب و آداب بھی کراہ کراہ کر چیخ و پکار میں مشغول ہو جاتے ہیں اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ مہتمم جلسہ اور خود ساختہ پیر صاحب کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہونے والا ہے تو اپنی کرخت آواز کے سہارے یہ وقت سے پہلے ہی باکرامت ولی بنا کر پیدا کروانے کا شرف حاصل کرلیں (الامان و الحفیظ) -
*نتائج*
ایسے جلسوں کے نتائج یہ ہوتے ہیں کہ سامعین جلسہ اصلاح کی جگہ دینی محافل سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں ہاں چند لچے مہتمم جلسہ اور خود ساختہ پیر صاحب سے ضرور وابستہ ہوکر گالی گلوج سیکھ لیتے ہیں (معاذاللہ)
حل
سب سے پہلے تو ہم جلسے کے اغراض و مقاصد متعین کریں مثلا تعلیمی بیداری، اصلاح اعمال وغیرہ -
پھر اوقات کی صحیح ترتیب مثلاً بعد نماز عشاء فوراً پروگرام باضابطہ شروع ہوں اور دس دس منٹ کے بجائے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عنوان کے تعین کے ساتھ کم از کم دو تقریریں چالیس چالیس منٹ کی ہو اور دو محطاط شعراء کی پندرہ پندرہ منٹ کی نعت خوانی کروائی جائے پھر ایک بااثر عالم دین کے ذریعہ جلسہ میں موجود متحرک وفعال، صاحب فضل و کمال، دینی خدمات انجام دینے والے علماء وفضلا کا تعارف نامہ کام کے افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے پیش کروائیں -
اور اخیر میں ان علاقائی علماء و شعراء کو وقت دیں جن کی دلجوئی مقصود ہو -
اور پھر سال آئندہ کے جلسہ میں پچھلے سال کے اغراض و مقاصد پر کہاں تک کام ہو پایا اسی کے مطابق پروگرام کا انعقاد ہو -
مثال کے طور پر اس سال کے جلسے میں ہمارا مقصد تھا کم از کم پانچ مکاتب میں منظم تعلیم اس کی دیکھ ریکھ اب سال آئندہ ان پانچ مکاتب کے معلمین ومتعلمین میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو انعام و اکرام سے نواز کر مزید کاموں کیلئے تیار کرنا وغیرہ -
اور اخیر میں ان خطباء وشعراء کے بیانات و نعت خوانی ہو جن کی دلجوئی مقصود ہے
مقصود ہے اس بزم میں اصلاح مفاسد
نشتر جو لگاتا ہے وہ دشمن نہیں ہوتا
میری تحریر سے سب کا اتفاق ضروری نہیں - میں نے اپنے درد کو تحریری شکل دیا ہے فقط
فیروزالقادری مصباحی
جامعہ نبویہ ازہری محلہ رام پور مدھواپور مدھوبنی بہار
7860706921
8076390143
